سپریم کورٹ نے آزاد کشمیر میں الیکشن تک تقرریوں اور تبادلہ جات پرپابندی لگادی ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ھایی کورٹ کا حکم معطل کرتے ھوے آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن شیڈول

جاری ھونے کے بعد سے حکومتی عاملین کی جانب سے جاری تمام ایسے احکامات منسوخ کرنے کا حکم دے دیا جو آزادانہ منصفانہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات پر اثر انداز ھوں… تفصیلات کے مطابق ھایی کورٹ نے انور محمود کی رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ھوے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بلدیاتی اداروں میں صوابدیدی آسامیوں پر تعینات ملازمین اور آفیسران کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن انور محمود کی درخواست پر معطل کر دیا تھا . انوار محمود نے عدالت عالیہ میں بزریعہ رٹ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بالا عنوانی مقدمہ میں عدالت عالیہ نےحکم امتناعی جاری کر رکھا ھے.. انھوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کو ملازمین کی برطرفی کا اختیار حاصل نھیں ھے. .. ھایی کورٹ کے حکم کے خلاف راجہ افتخار حسین وغیرہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ھوے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد حکومت کی جانب سے تقرریوں اور تبادلہ جات سمیت کسی بھی قسم کے ایسے احکامات جاری نھیں کیے جا سکتے جو غیر جانبدار اور منصفانہ انتخابات پر اثر انداز ھوں.. سایل راجہ افتخار وغیرہ کی درخواست پر سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ مشتمل بر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس رضا علی خان جج سپریم کورٹ نے آج سماعت کی اور قرار دیا کہ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ھے. غیر جانبدار اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کے احکامات کو قانونی حیثیت حاصل ھے.. سپریم کورٹ نے ھایی کورٹ کا حکم معطل کرتے ھوے آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن شیڈول جاری ھونے کے بعد سے حکومتی عاملین کی جانب سے جاری تمام ایسے احکامات منسوخ کرنے کا حکم دے دیا جو آزادانہ منصفانہ شفاف اور غیر جانبدارانہ ابتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ھو سکتے ھیں. سپریم کور ٹ نے فیصلہ کی ایک نقل فوری طور پر چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر کو برایے تعمیل ارسال کرنے کا حکم جاری کر دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں