ہم ا کیلئے افغانستان کے ٹھیکیدار نہیں ‘ دو ٹوک بات کرینگے، وزیرخارجہ

اسلام آباد(وقائع نگار ) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا نے سابقہ حلیفوں کو تحفظ کی یقین دہانی کرادی ہے،بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں عدم استحکام رہے، آج دوحہ معاہدے اور بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے، دوحہ معاہدے میں طالبان نے انخلا کے دوران حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا اور انہوں نے اس معاہدے کی پاسداری کی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری معیشت کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ، ہم نے ستر ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکائی ہے، اگر افغانستان کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو ہمارے مسائل میں بھی اضافہ ہوگا، مزید مہاجرین کے آنے کا خطرہ بھی موجود ہے، ہم بارڈر فینسنگ بھی کر رہے ہیں اور سرحد کو محفوظ بنارہے ہیں، (آج) ہفتہ کو تاجکستان اور ازبکستان روانہ ہورہا ہوں، وہاں افغان ایشو پر اہم کانفرس میں کئی ممالک شریک ہوں گے، ہم معذرت خواہانہ رویہ ہرگز نہیں اپنائیں گے ، ہم امن قائم کرنے والوں کا ساتھ دیں گے، ہم ا کیلئے افغانستان کے ٹھیکیدار نہیں دو ٹوک اور ڈٹ کر بات کریں گے، افغانستان کی صورتحال سنگین ہورہی ہے اور اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا جائز نہیں، اشرف غنی طالبان کے ساتھ بیٹھے کو تیار ہیں لیکن طالبان کو اشرف غنی پر اعتراضات ہیں، طالبان کا لباس سادہ لیکن وہ انتہائی ذہین اور قابل لوگ ہیں، طالبان اب بہت سمجھدار ہوگئے ہیں انہیں ہر چیز کا ادراک ہے۔ جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج امریکا کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارا تعمیری شراکت دار ہے، ان کے مطابق افغانستان میں ان کی اور پاکستان کی منزل ایک ہے، تیسری بات وہ پاکستان کو محض افغانستان کے نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہتے، وہ چاہتے ہیں کہ 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل ہو جائے گا لیکن پاکستان اور خطے کے ساتھ امن کیلئے ایک رشتہ استوار رہے، جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج پوری دنیا ہمارے موقف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، یہی بات عرصہ دراز سے وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں، انخلا کے فیصلے پر ان کا بائی پارٹیزن اتفاق ہے، ہماری سوچ تھی کہ انخلا ذمہ دارانہ ہو تاکہ کوئی منفی قوت فائدہ نہ اٹھائے

اپنا تبصرہ بھیجیں